شعبان میں روزہ قیامت کے دن کا ذخیرہ

Sat, 04/04/2020 - 13:16

خلاصہ: احادیث میں شعبان میں روزہ رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے اور اس کے فائدے اور اجر بیان کیا گیا ہے۔

شعبان میں روزہ قیامت کے دن کا ذخیرہ

حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "صِيَامُ شَعْبَانَ ذُخْرٌ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ مَا مِنْ عَبْدٍ يُكْثِرُ الصَّوْمَ فِي شَعْبَانَ إِلَّا أَصْلَحَ اللَّهُ لَهُ أَمْرَ مَعِيشَتِهِ وَ كَفَاهُ شَرَّ عَدُوِّهِ وَ إِنَّ أَدْنَى مَا يَكُونُ لِمَنْ يَصُومُ يَوْماً مِنْ شَعْبَانَ أَنْ تَجِبَ لَهُ الْجَنَّة"، "ُشعبان کا روزہ بندے کے لئے قیامت کے دن ذخیرہ ہیں، اور جو بندہ بھی ماہ شعبان میں زیادہ روزے رکھے، اللہ اس کی معیشت کی صورتحال کی اصلاح کرے گا اور اسے اس کے دشمن کے شر سے بچائے گا اور جو شخص شعبان میں سے ایک دن روزہ رکھے اس کا یقیناً کم از کم اجر یہ ہے کہ جنت اس کے لئے واجب ہوجائے گی"۔ [وسائل الشیعہ، ج۱۰، ص۵۰۵، ح۲۴]
اس حدیث سے چند ماخوذ نکات:
۱۔ شعبان کا روزہ بندے کے لئے قیامت کے دن میں ذخیرہ ہے، لہذا روزے کو چھوٹا سا عمل نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ جس دن انسان کو نیک اعمال کی انتہائی ضرورت ہوگی، اس دن اس کا یہ ذخیرہ اس کے کام آئے گا۔
۲۔ شعبان میں زیادہ روزے رکھنے چاہئیں۔
۳۔ شعبان میں زیادہ روزے رکھنے کے دو نتائج بتائے گئے ہیں جو بظاہر دنیاوی فائدے ہیں: ۱۔ معیشت کی صورتحال کی اصلاح، ۲۔ دشمن کے شر سے بچ جانا۔
۴۔ شعبان میں ایک روزہ رکھنے کا کم از کم اجر یہ ہے کہ جنت واجب ہوجاتی ہے تو زیادہ سے زیادہ ایک روزے کا ثواب کیا ہوگا، پھر جو شخص شعبان میں کثرت سے روزے رکھتا ہے اس کا آخرت میں کم از کم اور زیادہ سے زیادہ کیا ثواب ہوگا۔
۵۔ آجکل کرونا کی وجہ سے عموماً لوگوں کے کام اور روزگار کی چھٹی ہے اور لوگ کام سے فارغ ہیں اور گھر میں وقت گزر رہے ہیں تو شعبان کے یہ دن روزے رکھنے کے لئے بہترین موقع اور اجر و ثواب حاصل کرنے کے لئے بہت آسان وقت ہے، کیونکہ لوگ کام اور محنت میں مصروف نہیں ہیں کہ روزہ رکھنا ان کے لئے مشکل اور مشقت کا باعث ہو۔

* وسائل الشیعہ، شیخ حرّ عاملی، مؤسسة آل البيت عليهم السلام لإحياء التراث ـ قم، ج۱۰، ص۵۰۵، ح۲۴۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
5 + 13 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 42