تارک الصلاۃ کا بہانہ، شیطانی وسوسہ

Sat, 12/14/2019 - 20:05

خلاصہ: بعض لوگ نماز نہ پڑھنے کے لئے، نمازیوں پر اعتراض کرتے ہیں، یہ شیطانی وسوسہ ہے، اس سے پرہیز کرنا چاہیے اور نماز پڑھنی چاہیے۔

تارک الصلاۃ کا بہانہ، شیطانی وسوسہ

 

بعض لوگوں کو جب کہا جاتا ہے کہ نماز پڑھا کرو تو جواب دیتے ہیں کہ فلان آدمی نمازی ہے تو گناہ بھی کرتا ہے تو اسے کیا فائدہ ہوا، لہذا نماز پڑھنے کا کیا فائدہ ہے؟
یہ جواب دینے والے لوگ یہی بہانہ بنا کر تارک الصلاۃ بنے رہتے ہیں۔ یہ درحقیقت شیطانی وسوسہ اور شیطانی سوچ ہے۔ شیطان ایسی باتیں ذہن میں ڈالتا ہے تا کہ آدمی نماز نہ پڑھے۔ اس غلط سوچ کے چند جواب یہ ہیں:
پہلی بات یہ ہے کہ نماز پڑھنے والا آدمی اگر گنہگار بھی ہو تو وہ جو وضو کرکے اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر نماز پڑھتا ہے، یہی اللہ تعالیٰ کے سامنے تسلیم ہونے کا ایک مرحلہ ہے جس تسلیم ہونے سے اس دوسرے آدمی نے اپنے آپ کو محروم رکھا ہوا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ شخص اگر نمازی نہ ہوتا تو اس سے زیادہ گناہ کرتا مگر نماز کی وجہ سے کئی گناہوں سے محفوظ ہے، کیونکہ اس کا گناہ کرنا تو نظر آیا ہے، لیکن گناہ سے بچنا تو ظاہری طور پر آسانی سے نہیں دیکھا جاسکتا۔
تیسری بات یہ ہے کہ آدمی کو کیا نماز اس لیے پڑھنی چاہیے کہ لوگوں پر ان کی اپنی نماز کا اثر دکھائی دے یا اس لیے پڑھنی چاہیے کہ نماز پڑھنا اللہ تعالیٰ کا واجب حکم ہے جو انسان کو صحیح احکام کے مطابق پڑھنی چاہیے؟
چوتھی بات یہ ہے کہ نماز پڑھنے والے شخص نے تو صحیح احکام کے مطابق نماز پڑھ کر شرعی لحاظ سے اپنی ذمہ داری ادا کردی اور وہ قیامت کے دن شرعی حوالے سے بری الذمہ ہوگا، لیکن جس نے واجب نمازیں نہیں پڑھیں وہ آخرت میں اللہ کے عذاب کی گرفت میں ہوگا۔ سورہ مدثر کے مطابق جب جنتی لوگ جنت میں بیٹھے ہوں گے تو جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ "تمہیں کیا چیز سَقَر (جہنم) میں لے گئی؟ تو وہ چار وجوہات بتائیں گے جن میں سے پہلی وجہ یہ بتائیں گے کہ "...لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ"، "ہم نمازیوں میں سے نہیں تھے"۔

* سورہ مدثر، آیت ۴۳۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
1 + 0 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 50