گالی گلوچ کا عام استعمال

Thu, 12/12/2019 - 17:28

قرآن مجید، روایات اور مسلمانوں کی سیرت کے پیش نظر برا بھلا کہنا ( گالی دینا) خاص طور پر جھوٹ ہونے کی صورت میں، شرع مقدس اسلام کی نظر میں حرام اور ممنوع ہے۔

گالی گلوچ کا عام استعمال

بعض لوگ بعض مخصوص افراد کو چھیڑنے اور چڑھانے کے لیے کوئی لفظ استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ آدمی فوراً غلیظ غلیظ گالیاں بکنا شروع کر دیتا ہے۔ ہم نے کئی ایسے افراد کو دیکھا ہے۔ اس کا گناہ ایک طرف، اگر گالیاں بکنے والے کو گناہ ملتا ہے تو دوسری طرف ان کو بھی بڑا گناہ ملتا ہے جو اس گناہ پرا بھارتے ہیں ۔ جب کسی کو چڑھا کر اس کو گالیاں بکنے کا موقع دیتے ہیں تو سننے والے اس کی غلیظ گالیوں سے محظوظ ہوتے ہیں، یہ کوئی اچھا کام نہیں، امام باقر(ع) فرماتے ہیں: فَإِنَّ اَللَّهَ يُبْغِضُ اَللَّعَّانَ اَلسَّبَّابَ اَلطَّعَّانَ عَلَى اَلْمُؤْمِنِينَ؛ خداوند عالم لعنت کرنے والوں ’’گالیاں دینے والوں‘‘ مؤمن پر طعن(وطنز) کرنے والوں کو دشمن رکھتا ہے۔ [تحف العقول ، جلد 1،صفحه 300] بے شمار گھروں میں گالی گلوچ کا عام استعمال ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کہ گھر کا سربراہ تو کسی سے ڈرتا نہیں ، نہ خوف نہ ملامت ہے اس لیے بڑے دھڑلے سے ماتحتوں کو گالیاں دیتا ہے ۔ عموماً بچوں کو معمولی معمولی غلطیوں پر گالیاں دینے سے گھر کے ماحول پر بڑے برے اثرات پڑتے ہیں۔ گھر کے بچے ایسی گالیاں سیکھ کر بہن بھائی معمولی معمولی باتوں اور رنجشوں پر ان کو دہراتے ہیں ۔ تجربہ ہو چکاہے جو گالی گھر کا سربراہ تکیہ کلام کے طور پر استعمال کرتا ہے ، اس کے زیر تربیت افراد بھی وہی گالی دیتے ہیں پھروہی بچے یہ گالی باہر دوسرے بچوں کو معمولی معمولی خفگیوں پر دیتے ہیں ۔ اس طرح گالیاں گھر سے نکل کر باہر معاشرہ میں پھیل جاتی ہیں ۔ باہر سے پھر اور بچے ان گالیوں کو اپنے گھروں کی طرف منتقل کردیتے ہیں، جن میں گالیوں کا رواج نہیں ہوتا۔ بہت سے والدین کو شکایت ہوتی ہے کہ ہمارے گھروں میں یہ گالیاں کہاں سے آگئیں؟ ان بچوں نے یہ گالیاں کہاں سے سیکھیں؟ یہ نہیں سوچتے کہ ان گالیوں کی ابتدا خود ہم نے کی۔
منبع: تحف العقول عن آل الرسول علیهم السلام،الحسن بن علي بن الحسين بن شعبة الحراني،مؤسسة الأعلمي-بيروت، 1423هـ-2002م

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
4 + 15 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 44