دنیا کی عارضی لذتوں سے نجات

Wed, 11/20/2019 - 13:29

خلاصہ: انسان اسی دنیا میں اپنے نیک اور بد اعمال کی وجہ سے جنت یا جھنم کو حاصل کرنے والا ہے۔

دنیا کی عارضی لذتوں سے نجات

    ہم کو چاہئے کہ ہم دنیا کو صحیح طریقہ سے پہچانے، اسلام نے دنیا کو آخرت کے لئے ایک گذرگاہ  قرار دیا ہے، جس کے بارے میں حدیث میں اس طرح وارد ہوا ہے: «الدُّنْیا مَزْرَعَةُ الآخِرَةِ؛ دنیا آخرت کے کھیتی ہے»[بحار الانوار، ج:۶۷، ص:۲۲۵]، اس دنیا کو آخرت کے لئے ایک کھیتی قرار دیا گیا ہے، یعنی اسی کے ذریعہ انسان  اپنے آپ کو جھنمی یا جنتی بنا سکتا ہے، یعنی جنت میں جانے کا واحد راستہ یہی دنیا ہے، جس کے بارے میں خداوند متعال ارشاد فرمارہا ہے:: «فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ[سو رۂ زلزلۃ، آیت: ۷و۸] پھر جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہے وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہے وہ اسے دیکھے گا»۔
     اس آیت کے ذریعہ یہ بات واضح ہے کہ انسان اسی دنیا میں اپنے نیک اور بد اعمال کی وجہ سے جنت یا جھنم کو حاصل کرنے والا ہے۔
     قیامت پر عقیدہ کے ذریعہ انسان پر بہت زیادہ آثار مترتب ہوتے ہیں۔ اسلام قیامت کے اعتقاد کو انسان کے حیاتی ارکان میں سے ایک رکن قرار دیتا ہے، جس کے بغیر حقیقی انسان کی شکل ایک بے روح جسم کے مانند ہے۔
     قیامت پر ایمان کے اثرات میں سے یہ ہے کہ انسان کی روح ہمیشہ اس ایمان سے زندہ  رہتی ہے، وہ جانتا ہے کہ اگر وہ کبھی کسی مظلومیت یا محرومیت سے دوچار ہوا ہے، تو ایک دن آنے والا ہے جب انتقام لیا جائے گا اور اس کا حق اسے واپس ملے گا اور وہ جو بھی نیک کام انجام دے گا ایک دن اس کی بہترین صورت میں تجلیل و تعظیم کی جائے گی۔
    اور انسان کے فردی اور اجتماعی اعمال میں اس کا اثر اس طرح ہے کہ جو انسان قیامت پر اعتقاد رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ اس کے اعمال ہمیشہ تحت نظر ہیں، اور اس کے عمل کا ظاہر اور باطن ہمیشہ خداوند متعال کے سامنے موجود ہے۔
*بحار الانوار، دار إحياء التراث العربي ،بيروت، دوسری چاپ، ۱۴۰۳ق.

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
4 + 14 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 43