ہدایت کس کے ذریعہ ممکن ہے

Sun, 11/03/2019 - 17:08

خلاصہ: اگر انسان کو ہدایت حاصل کرنا ہے تو اس کا واحد راستہ قرآن اور اہل بیت(علیہم السلام) سے تمسک اختیار کرنا ہے۔

ہدایت کس کے ذریعہ ممکن ہے

    کبھی انسان راستہ معلوم کرنے والے کو اپنی تمام دقت اور لطف و کرم کے ساتھ راستہ بتاتا ہے، لیکن راستہ طے کرنا اور منزل مقصود تک پہنچنا خود اس انسان کا کام ہوتا ہے، اور کبھی انسان راستہ معلوم کرنے والے کا ہاتھ پکڑتا ہے اور راستہ کی راہنمائی کے ساتھ ساتھ اس کو منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے،
     خداوند عالم نے ہمارے لیئے راستہ کی راہنمائی کردی ہے جیسا کہ خود خداوند عالم ارشاد فرمارہا ہے: «اِنَّا ہَدَیْنَاہُ السَّبِیلَ ِمَّا شَاکِرًا وَِمَّا کَفُورًا[سورہانسان، آیت:۳] یقینا ہم نے اسے راستہ کی ہدایت دے دی ہے چاہے وہ شکر گزار ہوجائے یا کفران نعمت کرنے والا ہوجائے»، اب یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم کس طرح اس ہدایت کو حاصل کریں، تاکہ خدا کے بتائے ہوئے راستے کو اپنا کر اس اطاعت اور بندگی کرسکیں،  
    اس کی ہدایت حاصل کرنے کا واحد راستہ قرآن مجید اور اہل بیت(علیہم السلام) کو اپنے دل اور دماغ سے اپنانا ہے، جیسا کہ قرآن مجید کے بارے میں خود خداوند عالم ارشاد فرما رہا ہے: «ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ[سورہ بقرہ، آیت:۲] یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے. یہ صاحبانِ تقویٰ اور پرہیزگار لوگوں کے لئے مجسم ہدایت ہے»، اور اہل بیت کے بارے میں رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اس طرح ارشاد فرما رہے ہیں: «إِنِّي‏ تَارِكٌ‏ فِيكُمُ‏ الثَّقَلَيْنِ‏ كِتَابَ‏ اللَّهِ‏ وَ عِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي وَ إِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَمْ تَضِلُّوا؛ میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں، اللہ کی کتاب اور میرے اہل بیت، یہ دونوں ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں ہوسکتے یہاں تک کو حوض کوثر پر مجھ سے آ ملیں، ان دونوں سے تمسک اختیار کرو ہرگز گمراہ نہیں ہوں گے»

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
2 + 2 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 62