رسول اللہؐ کی رحلت کے بعد ابوسفیان کی چال

Mon, 09/16/2019 - 20:20

خلاصہ: ابوسفیان حقیقت میں اسلام اور مسلمانوں کا دشمن تھا، اسی لیے وہ موقع کی تلاش میں تھا کہ مسلمانوں سے جنگ بدر کے مقتولین کا انتقام لے۔

رسول اللہؐ کی رحلت کے بعد ابوسفیان کی چال

بنی امیہ کی بنی ہاشم سے دشمنی جاری رہی، یہاں تک کہ رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کی رحلت ہوگئی تو آپؐ کی رحلت کے پہلے دن ہی جبکہ آپؐ کا جنازہ مطہر ابھی دفن نہیں ہوا تھا کہ بعض مسلمانوں نے کسی جگہ پر اکٹھے ہوکر کسی شخص کو خلیفہ بنا دیا اور اس سے بیعت کرلی، وہ شخص قریش میں سے نہیں تھا، اسی لیے اس بات کو برداشت کرنا قریش کے مختلف قبیلوں منجملہ بنی ہاشم اور بنی امیہ کے لئے مشکل تھا۔ ابوسفیان جو دل سے اسلام اور مسلمانوں کا دشمن تھا اختلاف ڈالنے کے لئے ایسے موقع کو غنیمت سمجھ کر عباس کے پاس آیا، عباس جو رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کا چچا تھا۔

ابوسفیان نے کہا: کیوں بیٹھے ہو، ہم بنی عبدمناف کو پیچھے ہٹا دیا گیا ہے، علی جو پیغمبر کی طرف سے خلافت کے لئے مقرر ہوئے تھے، ان کو پیچھے ہٹا دیا گیا ہے اور قبیلہ تیم میں سے ایک شخص، پیغمبر کا جانشین بن گیا ہے، یہ کیسی مصیبت ہے۔ ابوسفیان نے فریاد کی: اے عبدمناف کے بیٹو! اپنا حق لے لو، "انّی لاریٰ عجاجۃ لا یطفئھا الا الدم" ، "میں ایسا طوفان دیکھ رہا ہوں جسے صرف خون بجھا سکتا ہے"۔ وہ یہ کہنا چاہتا تھا کہ آج ایسا وقت ہے کہ خون بہانا چاہیے۔
پھر وہ عباس کے ساتھ حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) کے پاس آیا۔ انہوں نے آپؑ سے کہا کہ ہم اس شخص سے بیعت نہیں کرنا چاہتے، ہم آپ سے بیعت کرنے کو تیار ہیں۔ حضرت علی (علیہ السلام) ابوسفیان کو اچھی طرح سے جانتے تھے کہ اگر اسے کوئی موقع مل جائے تو اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں سے بدر کے مقتولین کے خون کا انتقام لے۔ نہج البلاغہ کا پانچواں خطبہ آپؑ کا جواب ہے جس کا ایک فقرہ یہ ہے: "وَمُجْتَنِى الَّثمَرَةِ لِغَيْرِ وَقْتِ إِينَاعِهَا كَالزَّارِعِ بِغَيرِ أَرْضِهِ"،  "پھل کو پکنے کے وقت سے پہلے چننے والا، دوسروں کی زمین میں کاشت کرنے والے کی طرح ہے"۔

* ماخوذ از: در پرتو آذرخش، ص۱۶، آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی، قم، موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی رحمہ اللہ، ۱۳۸۱۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
1 + 7 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 50