امام رضا(علیہ السلام) کا امام محمد تقی(علیہ السلام) کی امامت پر دلیل دینا

Mon, 07/29/2019 - 15:40

خلاصہ: امام محمد تقی(علیہ السلام) کی امامت پر معصومین(علیہم السلام) کی فراوان حدیثیں موجود ہیں۔

امام رضا(علیہ السلام) کا امام محمد تقی(علیہ السلام) کی امامت پر دلیل دینا

     معصومین(علیہم السلام) نے اپنی فرمائیشات میں امام محمد تقی(علیہ السلام) کی امامت کو واضح طور پر بیان کیا ہے جن میں سے دو حسب ذیل ہیں:
     امام رضا(علیہ السلام) سے ایک صحابی نقل کرتے ہیں کہ امام رضا(علیہ السلام) کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے، کسی نے امام(علیہ السلام) سے سوال کیا، اگر کوئی مسئلہ پیش آئے تو آپ کے بعد کس کی طرف مراجعہ کریں؟ امام(علیہ السلام) نے امام محمد تقی(علیہ السلام) کی طرف اشارہ کیا، اس شخص نے امام(علیہ اسلام) سے عرض کیا میری جان آپ پر قربان ہوجائے وہ ابھی کمسن ہیں، امام رضا(علیہ السلام) نے فرمایا: خداوند عالم نے عیسی ابن مریم کو اس سے بھی کم عمر میں رسول، پیغمبر اور صاحب شریعت قرار دیا تھا[بحار الانوار، ج:۵، ص:۷۱]۔
     اسی بارے میں جابر ابن عبد اللہ انصاری  کہتے ہیں کہ ایک دن میں رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب سورۂ نساء کی ۵۹ویں آیت نازل ہوئی تھی، میں نے رسول خدا(صلی للہ علیہ وآلہ و سلم) سے عرضی کیا: ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو پہجانا اور ان کی اطاعت کرتے ہیں، مگر اس آیت میں ’’اولی الامر‘‘ کون ہیں جس کی اطاعت ہم پر واجب ہے؟ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) نے فرمایا: «اي جابر! اولی الامر میرے جانشین ہیں اور میرے بعد  مسلمانوں کے امام ہیں جس میں سب سے پہلے علی ابن ابی طالب(علیہما السلام) ہیں، ان کے بعد حسن(علیہ السلام)، پھر حسین(علیہ السلام)، پھر علی ابن حسین(علیہما السلام)، پھر محمد ابن علی(علیہما السلام) ہے جس کا نام توریت میں باقر ہے اور تم اس کو دیکھوگے اور جب تم ان کو دیکھنا تو میرا سلام کہنا، ان کے بعدجعفر ابن محمد(علیہما السلام)، پھر موسی ابن جعفر(علیہما السلام)، پھر علی ابن موسی(علیہما السلام)، پھر محمد ابن علی(علیہما السلام)، پھر علی ابن محمد(علیہما السلام)، ان کے بعدحسن ابن علی(علیہما السلام)، پھر  وہ جسکا نام میرا نام اور جس کی کنیت میری کنیت، زمین پر اللہ کی حجت اور حسن ابن علی(علیہما السلام) کے فرزند ہیں[بحار الانوار، ج:۵۰، ص:۲۵۳]۔
  اگر چہ عمر اور سن کو بہت ساری جگھوں پر اہم قرار دیا جاتاہے مگر خدا کے نزدیک اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، انسان کا نیک اور صالح عمل ہے جس کی وجہ سے وہ خدا کے نزدیک درجہ حاصل کرتا ہے اور یہ خدا کی طرف سے ایک ہدیہ ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔
* بحار الانوار، محمد باقر ابن محمد تقی مجلسی، ج۵۰، ص۲۱، دار احیاء التراث العربی،۱۴۰۳ق۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
6 + 1 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 36