عدالت صحابہ پر اہل سنت کے دلائل کا جائزہ

Sat, 07/27/2019 - 14:04

صحابہ کی عدالت کیلئے چند قرآنی آیات سے استدلال کیا گیا ہے جن پر ہم ذیل میں روشنی ڈالتے ہیں۔

عدالت صحابہ پر اہل سنت کے دلائل

اہل سنت عدالت صحابہ کے نظریے کی اثبات میں قرآن کی آیات اور پیغمبر اکرمؐ کی احادیث سے استدلال کرتے ہیں؛من جملہ وہ دلائل درج ذیل ہیں:
وہ آیات جن میں صحابہ پر خدا کے راضی ہونے کا بیان آیا ہے جیسے وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِ‌ینَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِینَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّ‌ضِی اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَ‌ضُوا عَنْهُ ؛اسی طرح سورہ فتح کی آیت نمبر 18 جس میں ارشاد ہے لَّقَدْ رَضِيَ اللَّـهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ [سورة الفتح ۱۸] اہل سنت علماء ان آیات میں صحابہ پر خدا کی خشنودی کو ان کی عدالت پر دلیل قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس سے خدا راضی ہو اس پر خدا کبھی بھی عذاب نازل نہیں کرے گا۔[ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۹۹۲م/۱۴۱۲ق، ج۱، ص۴.] ان کے مقابلے میں شیعہ علماء کہتے ہیں کہ یہ آیات تمام صحابہ کی عدالت پر دلالت نہیں کرتی؛ کیونکہ پہلی آیت سے مراد صرف بعض مہاجرین اور انصار ہیں نہ کہ تمام صحابہ۔[ علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۹، ص۳۷۴؛ سبحانی، الالہیات، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۴۴۵] دوسری آیت سے بھی صرف وہ صحابہ مراد ہیں جو بیعت رضوان میں حاضر تھے اور اپنی زندگی کے آخری لمحات تک اس عہد و پیمان پر باقی رہے ہوں نہ کہ تمام اصحاب۔[طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج۹، ص۳۲۹.] اسی طرح تمام صحابہ کی عدالت کا نظریہ سورہ توبہ کی آیت نمبر 101 وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَ‌ابِ مُنَافِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ۖ مَرَ‌دُوا عَلَى النِّفَاقِ؛کے ساتھ بھی سازگار نہیں ہے۔
وہ آيات جو مسلمانوں کو بہترین امت اور امت وسط قرار دیتی ہیں، جیسے كُنتُمْ خَیرَ أُمَّةٍ أُخْرِ‌جَتْ لِلنَّاسِ [سورة آل عمران ۱۱۰] اور آيت وَ کَذلِکَ جَعَلْناکُمْ أُمَّةً وَسَطاً [سورة البقرة ۱۴۳] بعض اہل سنت مفسرین امت وسط سے امت عادل تفسیر کرتے ہوئے[سیوطی، الدرالمنثور، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۱۴۴؛ فخر رازی، تفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۴، ص۸۴.] کہتے ہیں کہ اگرچہ اس آیت میں لفظ امتْ عام ہے لیکن اس سے چند خاص افراد یعنی صحابہ مراد ہیں اور یہ آیت صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے؛[خطیب بغدادی، الکفایہ، المکتبۃ العلمیہ، ج۱، ص۶۴] جبکہ شیعہ علماء کے مطابق یہ آیت پیغمبر اکرمؐ کے بعض اصحاب کی شان میں نازل ہوئی ہے جن کی وجہ سے خدا نے پیغمبر اکرمؐ کی امت کو بہترین امت قرار دیا ہے نہ کہ تمام صحابہ مراد ہیں۔[علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۱۲۳.]حدیث اصحابی کالنجوم؛ اس حدیث میں پیغمبر اکرمؐ کے اصحاب کو ستاروں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جن میں سے جس کسی کی بھی پیروی کی جائے ہدایت پائے گا۔ شیعہ اور بعض اہل سنت علماء کے مطابق یہ حدیث جعلی ہے اور قرآن کی مختلف آیات نیز پیغمبر اکرمؐ کی دوسری صحیح احادیث کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔[سبحانی، الالهیات، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۴۴۳.]اسی طرح صحابہ کی عدالت کو ثابت کرنے کے لئے قرآن کی دوسری آیات[ سورہ فتح، آيت ۲۹؛ سورہ حدید آیت ۱۱؛ سورہ حشر، آیات ۸- ۱۰؛ سورہ توبہ، آیت ۱۱۷؛ رجوع کریں دوخی، عدالۃ الصحابہ بین القداسۃ و الواقع، ۱۴۳۰ق، ص۴۲-۸۷] اور احادیث جیسے حدیث خیر القرون قرنی اور حدیث لا تسبوا اصحابی سے بھی استدلال کیا گیا ہے۔[ ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۱۶۵.]جبکہ صحابہ کے درمیان منافقین اور مرتدّین کا پایا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ مذکورہ آیات اور احادیث سے مراد تمام صحابہ نہیں ہیں۔[ علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۹، ص۳۷۴.] مثال کے طور پر مفسرین کے مطابق آیت نبأ میں ارشاد ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ؛[سورہ حجرات، آیت ۶] یہ آیت ولید بن عقبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو صحابہ میں سے تھے۔[ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۹، ص۱۹۸]۔
منابع:ابن عبد البر، یوسف بن عبداللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت، دار الجیل، ۱۹۹۲ء/۱۴۱۲ق۔طباطبایی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ۱۴۱۷ق۔سبحانی، جعفر، الالہیات علی ہدی الکتاب و السنہ و العقل، قم، المرکز العالمی للدراسات الاسلامیہ، ۱۴۱۲ق۔طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، تحقیق احمد قصیر عاملی، مقدمہ آقا بزرگ تہرانی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا۔دوخی، یحیی عبد الحسین، عدالۃ الصحابہ بین القداسۃ و الواقع، المجمع العالمی لاہل بیت، ۱۴۳۰ق۔ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الاصابۃ فی تمییز الصحابہ، تحقیق عادل احمد عبد الموجود، علی محمد معوض، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۱۵ق۔طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ محمد جواد بلاغی، تہران، انتشارات ناصر خسور، ۱۳۷۲ش۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
12 + 1 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 41