عقل اور تفکر کی نشانی

Sat, 06/29/2019 - 19:05

خلاصہ: اصول کافی کی احادیث کی تشریح کرتے ہوئے حضرت امام موسی کاطم (علیہ السلام) کی حدیث کی دیگر احادیث روشنی میں وضاحت کی جارہی ہے۔

عقل اور تفکر کی نشانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت امام موسی کاظم (علیہ السلام) نے جناب ہشام ابن حکم سے فرمایا: "يَا هِشَامُ، إِنَّ لِكُلِّ شَيْ‌ءٍ دَلِيلًا، وَ دَلِيلُ الْعَقْلِ التَّفَكُّرُ، وَ دَلِيلُ التَّفَكُّرِ الصَّمْتُ"، "اے ہشام، یقیناً ہر چیز کی کوئی نشانی ہے اور عقل کی نشانی تفکر ہے، اور تفکر کی نشانی خاموشی ہے"۔ [الکافی، ج۱، ص۱۶]

مختصر وضاحت:
انسان کو ہر بات اور ہر کام سے پہلے تفکر اور غوروخوض کرنا چاہیے، اور خود تفکر خاموشی کی حالت میں کیا جاسکتا ہے۔ جو آدمی زیادہ باتیں کرتا ہے اسے غور کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا، ایک بات کے بعد دوسری بات، دوسری کے بعد تیسری، لہذا اس سے غلطیاں زیادہ سرزد ہوتی ہیں۔
خاموشی تفکر کی نشانی ہے، لیکن اگر انسان خاموش رہے اور تفکر نہ کرے تو اس کیفیت کو کیا کہا جائے گا؟ حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جُمِعَ الخَيرُ كُلُّهُ في ثَلاثِ خِصالٍ: النَّظَرُ، وَالسُّكوتُ، وَالكَلامُ. فَكُلُّ نَظَرٍ لَيسَ فيهِ اعتِبارٌ فَهُوَ سَهوٌ، وكُلُّ كَلامٍ لَيسَ فيهِ ذِكرٌ فَهُوَ لَغوٌ، وكُلُّ سُكوتٍ لَيسَ فيهِ فِكرَةٌ فَهُوَ غَفلَةٌ. فَطوبى لِمَن كانَ نَظَرُهُ عَبَرا، وسُكوتُهُ فِكرا، وكَلامُهُ ذِكرا، وبَكى عَلى خَطيئَتِهِ، وأَمِنَ النّاسُ شَرَّهُ"، "ساری خیر تین خصلتوں میں اکٹھی کی گئی ہے: نگاہ اور خاموشی اور بولنا، تو جس نگاہ میں عبرت لینا نہ ہو تو وہ بیہودہ ہے، اور جس بولنے میں (اللہ کی) یاد نہ ہو تو وہ فضول ہے اور جس خاموشی میں غور نہ ہو تو وہ غفلت ہے، لہذا خوشا حال وہ شخص جس کی نگاہ عبرت ہو اور اس کی خاموشی تفکر ہو اور اس کی بات (اللہ کی) یاد ہو اور اپنی خطا پر روئے اور لوگ اس کے شر سے محفوظ ہوں"۔ [الخصال، ص۹۸]
نہج البلاغہ کی حکمت ۴۰ میں حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کا ارشاد ہے: "لِسَانُ الْعَاقِلِ وَرَاءَ قَلْبِهِ، وَقَلْبُ الاْحْمَقِ وَرَاءَ لِسَانِهِ"، "عقلمند کی زبان اس کے دل کے پیچھے ہے، اور احمق کا دل اس کی زبان کے پیچھے ہے"۔
آپؑ کا یہ فرمان اس بات سے کنایہ ہے کہ عاقل پہلے سوچتا ہے اور پھر بولتا ہے اور احمق پہلے بولتا ہے اور بعد میں سوچتا ہے، اسی لیے عقلمند آدمی کی باتیں سنجیدہ، پختہ، مفید اور مضبوط ہوتی ہیں، لیکن احمق کی باتیں غیرسنجیدہ اور بعض اوقات اس کے اپنے نقصان میں ہوتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
[الکافی، الشيخ الكليني الناشر دارالكتب الاسلامية، تہران، پانچویں ایڈیشن، ۱۳۶۳ ھ.ش]
[الخصال، الشیخ الصدوق، منشورات جماعة المدرسين في الحوزة العلمية في قم المقدسة، ۱۸ ذي القعدة الحرام ۱۴۰۳]

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
4 + 0 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 26