سیپارۂ رحمان:معارف اجزائے قرآن: پچیسویں پارے کا مختصر جائزہ

Sat, 06/01/2019 - 01:49

ماہ رمضان ، ماہ نزول قرآن ہے، روزے بھی رکھیئے ! اور اپنی زبانوں کو تلا وت سے، کانوں کو سماعت سے اور دلوں کو قرآن کریم کے معانی اور مطالب میں غور و تدبر سے معطر اور منور بھی کیجئے ! وہ خوش نصیب انسان جو بندوں کے نام ، اللہ کے پیغام اور اسکے کلام کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں ، ان کے لئے ہر روز تلاوت کیے جانے والے ایک پارہ کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔اور یہ اس سلسلے کے پچیسویں پارے کا خلاصہ ہے، کیا عجب کہ یہ خلا صہ ہی تفصیل کے ساتھ قرآن کریم کے مطالعہ اور اس کے مشمولات کے ذریعہ عمل پر آمادہ کر دے ۔

سیپارۂ رحمان:معارف اجزائے قرآن: پچیسویں پارے کا مختصر جائزہ

 سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ۗ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ﴿٥٣﴾ سورة فصلت:اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ کائناتِ ارض وسما اور یہ وجود انسانی دونوں قدرت خدا کی دوکھلی ہوئی کتابیں ہیں جن کا لفظ لفظ اس کے وجود اور اس کی عظمت و جلالت کی گواہی دے رہا ہے، انسان کائنات کے ایک ذرّہ پر بھی نگاہ کرے تو اسے اندازہ ہو جائے گا کہ خالق حکیم کے بغیر اس کی تخلیق ممکن نہیں ہے اور اپنے وجود کی ایک سانس پربھی غور کرلے تو اس بات کا یقین کر لے گا کہ کوئی کارساز ذہن ہے جو اس وجود کو چلا رہا ہے اور اسے باقی رکھے ہوئے ہے ورنہ اس عمارت کا بھروسہ ہی کیا ہے جو ہوا پر قائم ہو اور جو ایک ایک سانس سے ہل جائے، یہ رب کائنات کا کرم ہے کہ ایسی عمارت کو سیکڑوں سال اسی شان سے باقی رکھتا ہے، اسلام کا عقیدہ ٔتوحید اگر چہ ایک غیبی عقیدہ ہے لیکن اس کے دلائل اور شواہد ہرگز غیبی نہیں ہیں بلکہ سر تا سر بالکل واضح اور محسوس ہیں جن کے بعد انسان کو غیب کہہ کر نظر انداز کر دینے کا کوئی حق نہیں پہنچتا ہے۔ امیر المؤمنیؑن نے انسانی وجود کے بارے میں کتنا حسین جملہ ارشاد فرمایا ہے کہ یہ ایک ایسی مخلوق ہے جو گوشت سے بولتا ہے، ہڈی سے سنتا ہے اور چربی سے دیکھتا ہے، کیا ایسے اعضاء یعنی گوشت و استخوان کے ٹکڑوں میں ایسی صلاحیت کا پیدا کرد یناخالقیت اور مالکیت کی محکم ترین دلیل نہیں ہے، اور اگر انسان خود اپنے وجود کی طرف سے بھی غافل ہے تو خدا کی طرف کسی طرح متوجہ ہو گا۔ 
وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَجَعَلَهُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَـٰكِن يُدْخِلُ مَن يَشَاءُ فِي رَحْمَتِهِ ۚ وَالظَّالِمُونَ مَا لَهُم مِّن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ ﴿٨﴾ سورة الشورى: بیشک خدا جبری طور پر ہدایت دے سکتا ہے لیکن اس طرح انسان انسان نہیں رہ جاتا ہے بلکہ جماوات اور نباتات میں شامل ہو جاتا ہے اس لئے کہ انسان کی انسانیت اس کے اراده و اختیار سے وابستہ ہے اس کے بغیر کوئی انسانیت نہیں ہے۔ 
انسانیت کے تحفظ اور احترام کا تقاضا یہ ہے کہ اس پر جبر نہ کیا جائے اور اسے اپنے ارادہ سے حق قبول کرنے کی دعوت دی جائے اور وہ بھی اسی نشان سے حق کو قبول کرے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرے۔
۔۔۔۔۔قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ ۗ ۔۔۔۔۔۔ ﴿٢٣﴾ سورة الشورى: صاحب کشاف، صاحب بحر المحیط ، صاحب روح البیان اور صاحب تفسیر کبیر سب نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ آیت مبارکہ کے نزول کے بعد اصحاب نے پیغمبرؐ اکرم سے یہ سوال کیا تھا کہ ان قرابتداروں سے کون حضرات مراد ہیں تو آپ نے فرمایا تھا کہ علیؑ فاطمہؑ اور حسنؑ و حسینؑ۔ 
نظام الدین نیشاپوری نے غرائب القرآن میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ علیؑ و فاطمہؑ اور دونوں کے دونوں فرزند۔ 
بعض مفسرین نے اس استثناء کو منقطع قرار دے کر اس مطالبہ کو اجر رسالت سے الگ کرنا چاہا ہے حالانکہ استثناء کی اصل ہی یہ ہے کہ اسے متصل ہونا چاہیے جب تک کہ اس کے خلاف کوئی دلیل نہ آ جائے اور اسی کی بنیاد پر مودۃ القربي تبليغ رسالت کی اجرت ہے اور الگ سے کوئی مطالبہ نہیں ہے۔ 
بعض مفسرین نے اس روایت میں بھی تشکیک کیا ہے کہ یہ سورہ مکّی ہے اور حسنینؑ کی ولادت مدینہ میں ہوئی ہے لہذا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے حالانکہ کھلی ہوئی بات ہے کہ سوره کے مکی ہونے کے یہ معنی ہر گز نہیں ہیں کہ تمام آیات  مکی ہوں جیسا کہ خود اس سورہ کے بارے میں مفسرین نے تصریح کی ہے۔
وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ﴿٣٠﴾ سورة الشورى: انسان یہ خیال کرتا ہے کہ بلائیں از غیب نازل ہوتی ہیں اور ان میں اس کا کوئی خل نہیں ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان سب کا انسان سے قریب یا دور کا کوئی نہ کوئی رابط ضرور ہوتا ہے،یہ بلائیں کبھی براہ راست انسان کی سزا یا تنبیہ کے طور پر نازل ہوتی ہیں اور کبھی اس کے کسی عمل کا اثر ہوتی ہیں جو بعيد المدت زہر کی طرح کام  کرتی ہیں۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
1 + 0 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 28