سیپارۂ رحمان:معارف اجزائے قرآن: بائیسویں پارے کا مختصر جائزہ

Tue, 05/28/2019 - 11:30

ماہ رمضان ، ماہ نزول قرآن ہے، روزے بھی رکھیئے ! اور اپنی زبانوں کو تلا وت سے، کانوں کو سماعت سے اور دلوں کو قرآن کریم کے معانی اور مطالب میں غور و تدبر سے معطر اور منور بھی کیجئے ! وہ خوش نصیب انسان جو بندوں کے نام ، اللہ کے پیغام اور اسکے کلام کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں ، ان کے لئے ہر روز تلاوت کیے جانے والے ایک پارہ کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔اور یہ اس سلسلے کے بائیسویں پارے کا خلاصہ ہے، کیا عجب کہ یہ خلا صہ ہی تفصیل کے ساتھ قرآن کریم کے مطالعہ اور اس کے مشمولات کے ذریعہ عمل پر آمادہ کر دے ۔

سیپارۂ رحمان:معارف اجزائے قرآن: بائیسویں پارے کا مختصر جائزہ

إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ﴿٣٣﴾ سورة الأحزاب:صحیح مسلم ج ۲ ق ۱۱۶۲طبع ۳۴۸ اھ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی ہے جب رسول اکرمؐ نے زیر کساء علؑی اور فاطمہؑ اور حسنینؑ کو جمع کر لیا تھا۔ یہی بات ترمذی اور مسند احمد میں بھی پائی جاتی ہے بلکہ تفسیر طبری میں تو ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ جناب ام سلمہ نے زبر کساءآنے کی درخواست کی تو رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ تمہارا انجام بخیر ہے لیکن چادر میں تمہاری گنجائش نہیں ہے۔اس مقام پر بعض مفسرین نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ جب آیت ازواج کے تذکرہ کے ذیل میں وارد ہوئی ہے تو ان کے خارج کرنے اور دیگر حضرت کے مراد لینے کا جواز کیا ہے؟ لیکن اس کا واضح سا جواب یہ ہے کہ اول تو سیاق آیات سند نہیں ہوا کرتا ہے اس لئے کہ قرآن کوئی تصنیف یا تالیف نہیں ہے کہ اس میں ان باتوں کا لحاظ رکھا جائے ؛ اس میں ایسے بے شمار مقامات ہیں جہاں ایک تذکرہ کے بعد دوسرا تذکرہ شروع ہو جاتا ہے اور پھر بات پلٹ کر وہیں پہنچ جاتی ہے، اور دوسری بات یہ ہے کہ آیت تطہیر کا عنوان اہل البیتؑ ہیں جو از واج اور نساء سے مختلف عنوان ہے، اور تیسری بات یہ ہے کہ روایات صریحہ اور صحیحہ کے ہوتے ہوئے سیاق سے استدلال کرناعقل ومنطق کے خلاف ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ ۔۔۔۔۔۔۔ ﴿٥٣﴾ سورة الأحزاب: اصحاب کی عادت تھی کہ پرانے طریقہ کے مطابق گھروں میں گھس جاتے تھے اور انتظار کرتے تھے کہ کھانا پک جائے تو کھائیں اور پھر بیٹھ کر میٹنگ کریں، پروردگار نے منع کر دیا کہ یہ بات خلاف ادب ہے اور اس طرح پیغمبرؐ کو تکلیف پہنچتی ہے اور وہ از راہِ حیا تمہیں نکال بھی نہیں سکتا ہے۔
إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ﴿٥٦﴾ سورة الأحزاب: صلوات خدا کی طرف سے رحمت۔ ملائکہ کی طرف سے تو صیف و تزکیہ اور مؤمنین کی طرف سے دعائے رحمت کے معنی میں ہے،مالک کائنات نے رسول ؐ پر صلوات بھیجنے کا حکم دیا ہے ، اب یہ رسول کی ذمہ داری ہے کہ وہ طریقہ کی تعلیم دیں جیسا کہ صحیح  بخاری میں وارد ہوا ہے کہ آپ نے صلوات کا طریقہ تعلیم دیتے ہوئے آل کو بھی شامل فرمایا ہے اور مفسرین نے بھی اس حدیث کا اقرار کیا ہے، جس کا کھلا ہوا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں میں صرف صلی اللہ علیہ وسلم کہنا اور آل کو خارج کر دینا ایک بدترین بدعت ہے جس کا ارشاد پیمبرؐ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم ۖ بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ ﴿٣٢﴾ سورة سبإ: یہ ہر دور میں بڑے لوگوں کا طرز عمل رہا ہے کہ پہلے جاہل افراد کو دھوکہ دے کر اپنے ساتھ کر لیتے ہیں اور جب کام بگڑ جاتا ہے تو اپنے کو بالکل بری الذمہ ثابت کر کے الگ ہو جانتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور یہ جاہلوں کی جہالت ہوتی ہے کہ اس کے باوجود ان کے پیچھے لگے رہتے ہیں لیکن یہ سب اس دار دنیا تک ہے، آخرت کا عذاب سامنے آنے کے بعد یہ سارے فلسفے ختم ہو جائیں گے اور کسی کی ہوشیاری یا بیوقوفی کام نہ آئے گی اور عذاب کی شدت دیکھ کر سب ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے اور جاہلوں کا دعوی یہ ہوگا کہ یہ بڑے لوگ نہ ہوتے تو ہم راہ راست پر آ جاتے ہمیں تو ان بڑے لوگوں نے گمراہ کیا ہے، دارِ دنیا میں اس صورت حال کا ایک نقشہ شہادت امام حسین ؑکے بعد دیکھا گیا ہے کہ قتل تک سب عید منا رہے تھے اور قتل کے بعد یزید، ابن زیاد، شمر، سب نے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانا شروع کر دیا اور کوئی اس واقعہ کی ذمہ داری لینے کیلئے تیار نہ تھا جب کہ قیامت میں سب کو اس کی سزا برداشت کرنا پڑے گی۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
10 + 9 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 34