قرآن کی تحدّی کا مطلب اور آیاتِ تحدّی

Wed, 09/13/2017 - 19:06

خلاصہ: قرآن کریم میں کئی آیات، تحدی کے بارے میں ہیں۔ اس مضمون میں تحدی کی مختصر وضاحت اور پھر تحدی کی آیات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔

قرآن کی تحدّی کا مطلب اور آیاتِ تحدّی

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ تعالی نے قرآن اور پیغمبر اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے، کافروں اور منکروں کو مقابلہ کی دعوت دی ہے کہ اگر تم لوگ کہتے ہو کہ قرآن، اللہ کی جانب سے نہیں ہے تو قرآن کی مثل لاؤ، جن آیات میں اس مقابلہ کی دعوت دی گئی ہے ان آیات کو آیاتِ تحدّی کہا جاتا ہے۔ یہ آیات تین طرح کی ہیں: کل قرآن کی تحدّی(تین آیتیں)، دس سوروں کی تحدّی (ایک آیت) اور ایک سورہ کی تحدّی (دو آیتیں)۔
کل قرآن کی تحدّی: ۱۔ "فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِّثْلِهِ إِن كَانُوا صَادِقِينَ"، "اگر وہ سچے ہیں تو پھر ایسا کلام لے آئیں"۔ (سورہ طور، آیت ۳۴)۔    ۲۔ "قُلْ فَأْتُوا بِكِتَابٍ مِّنْ عِندِ اللَّهِ هُوَ أَهْدَىٰ مِنْهُمَا أَتَّبِعْهُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ"۔ (قصص، ۴۹)۔  ۳۔ "قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيراً"۔ (اسراء، ۸۸)۔
دس سوروں کی تحدّی: "أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ"، "یا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص (آپ) نے یہ (قرآن) خود گھڑ لیا ہے؟ آپ فرمائیے اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو تو تم بھی اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں لے آؤ۔ اور بے شک اللہ کے سوا جس کو (اپنی مدد کیلئے) بلانا چاہتے ہو بلا لو"۔ (ہود، ۱۳)۔
ایک سورہ کی تحدّی: ۱۔ "أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ"، "کیا یہ (کافر) لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص (پیغمبرِ اسلام(ص) نے اسے خود گھڑ لیا ہے؟ آپ کہیئے! اگر تم اپنے اس الزام میں سچے ہو تو تم اللہ کے سوا اپنی مدد کے لئے جس جس کو بلا سکتے ہو بلا لو اور پھر قرآن کی مانند ایک ہی سورہ لے آؤ"۔ (یونس، ۳۸)۔  ۲۔ "وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ"۔ (بقرہ، ۲۳)۔
حوالہ:
آیات کا ترجمہ: بلاغ القرآن، ترجمہ مولانا شیخ محسن نجفی صاحب۔

تبصرے

Submitted by 123 on

با درود
این هم‌ایاتی شبیه قران. در مورد زبان این ایات باید گفت که خواوند تمام بشریت را به تحدی دعوت کرده است و بنابراین انتظاری نداشته است که همه مردم جهان به زبان عربی مسلط باشند. ضمن اینکه حایی هم اشاره به زبان عربی نکرده است که الزاما باید این ایات به زبان عربی باشند. و در پایان اینکه اگر طبان هربی ایات برایتان مهم است میتوانید این ایات را به عربی ترجمه کنید. تعداد ایات بیش از ده عدد هست که قران انتظار داشته است.
حق جو و حق طلب باشید

به اسمان بنگرید، و هر ان شگفت زده میشوید چه در شب و چه در روز. در روز خورشید در اسمان میدرخشد و در شب ماه نور میپراکند. و ستاره ها نیز چون خورشیدی در دوردست میدرخشند. چون اینه ای بر اسمان. انچه میبینید و تصور میکنید با انچه در حقیقت وجود دارد متفاوت است. ماه به دور زمین میگردد و این دو به دور خورشید میگردند. و همه چیز در چرخش است. و این است دلیل شب و روز و حتی ماه گرفتی و خورشید گرفتگی. پس علم و دانش را سرلوحه کارتان قرار دهید. همانطور که فرادی پیش از شما با کسب اخلاق و دانش توانستند بخشهایی از رازهای جهان را کشف کنند. فارغ از هرگونه دین و ایینی و فقط براساس اسانیت به یکدیگر کمک کنید، حتی کسانی که منکر وجود خداوندند. زمان را غنیمت شمارید و از ان به نیکی بهره ببرید.

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
8 + 2 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 48