محمد و آل محمد پر صلوات - مناجات شعبانیہ کی تشریح

Thu, 05/25/2017 - 12:43
محمد و آل محمد پر صلوات - مناجات شعبانیہ کی تشریح

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مناجات

محمد و آل محمد پر صلوات - مناجات شعبانیہ کی تشریح

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مناجات شعبانیہ جو حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) سے نقل ہوئی ہے اور اس مناجات کو سب ائمہ اطہار (علیہم السلام) پڑھا کرتے تھے، اس کے پہلے فقرہ "اَللّهُمَّ صَلِّ عَلي مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ"کی تشریح کرتے ہوئے، اس سلسلہ میں پہلا مضمون پیش کیا جارہا ہے۔ آپ (علیہ السلام) بارگاہ الٰہی میں مناجات کو اس طرح شروع کررہے ہیں: "اَللّهُمَّ صَلِّ عَلي مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ"، "بارالہا! محمدؐ اور آل محمدؐ پر صلوات بھیج"۔

تشریح
صلوات کے لغوی اور اصطلاحی معانی
صلوات، لفظ صلاۃ کا جمع ہے اور صلاۃ "ص،ل،و" کے مادہ سے ہے۔ اس کے معنی دعا، درود، تحیت اور رحمت ہیں۔ صلوات، صلاۃ کا جمع کے طور پر نماز کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے اور کہا گیا ہے کہ کیونکہ نماز، کچھ دعاؤں پر بھی مشتمل ہے تو اسے صلاۃ کہا جاتا ہے اور اس لیے صلوات عربی میں جمع کی صورت میں استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد نمازیں، دعائیں اور درود ہیں۔[1] فارسی اور اردو میں لفظ "صلوات" سے مراد، "صلاۃ" کا جمع نہیں ہے، بلکہ اس سے اصطلاحی معنی مراد ہیں یعنی محمدؐ و آل محمدؐ پر خاص درود۔
دینی اصطلاح میں صلوات اس عبادت کا نام ہے جو پیغمبرؐ اور آنحضرتؐ کی آلؑ پر خاص درود بھیجا جاتا ہے جسے شیعہ"اللّهم صلّ علی محمّد و آل محمّد" کے لفظوں سے بھیجتے ہیں۔ تفسیر المیزان میں سورہ احزاب کی آیت ۴۳ کے ذیل میں بیان ہوا ہے کہ صلواۃ کے مکمل معنی، جیسا کہ اس کے مستعمل موارد سے حاصل ہوتا ہے، انعطاف (لچک اور رجحان)ہے، نسبت کے مختلف ہونے سے مختلف ہوتی ہے۔ لہذا کہا گیا ہے: وہ خدا کی طرف سے رحمت اور ملائکہ کی طرف سے استغفار اور لوگوں کی طرف سے دعا ہے۔[2]

لفظ "صلوات" کے قرآن کریم میں مختلف معانی
۱۔ دعا: "خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ"[3]، "اے رسول! ان لوگوں کے مال سے صدقہ (زکوٰۃ) لیں اور اس کے ذریعہ سے انہیں پاک و پاکیزہ کریں۔ اور (برکت دے کر) انہیں بڑھائیں نیز ان کے لیے دعائے خیر کریں کیونکہ آپ کی دعا ان کے لیے تسکین کا باعث ہے اور خدا بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے"۔
۲۔ نماز: …"فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا"[4]، …"تو نماز کو پورے طور پر ادا کرو۔ بے شک نماز اہل ایمان پر پابندی وقت کے ساتھ فرض کی گئی ہے"۔
۳۔ درود: "أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ"[5]، "یہی وہ (خوش نصیب) ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے درود (خاص عنایتیں اور نوازشیں) ہیں اور رحمت و مہربانی ہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں"۔[6]

صلوات کی اہمیت اور عظمت
صلوات کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو حکم دینے سے پہلے خود صلوات بھیج رہا ہے اور پھر فرشتوں کے صلوات بھیجنے کی خبر دے رہا ہے، اس کے بعد مومنین کو حکم دے رہا ہے کہ تم پیغمبرؐ پر صلوات اور سلام بھیجو، سورہ احزاب میں ارشاد الٰہی ہے: "إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا[7]"، "بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو جس طرح بھیجنے کا حق ہے"۔
صلوات کی عظمت، اِس آیت کریمہ کے علاوہ، احادیث سے بھی واضح ہوتی ہے جن میں محمدؐ و آل محمدؐ پر صلوات بھیجنے کی بہت تاکید کی گئی ہے۔ نیز واضح رہے کہ ناقص صلوات سے منع کیا گیا ہے۔ ناقص صلوات وہ ہوتی ہے جس میں صرف رسول اکرمؐ پر صلوات بھیجی جائے اور آپؐ کی آلؑ پر صلوات نہ بھیجی جائے۔ صلوات اتنی اہمیت کی حامل ہے کہ تمام شیعہ فقہاء نماز کے پہلے اور دوسرے تشہد میں صلوات کو واجب جانتے ہیں۔[8] نیز حضرت عائشہ نے رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) سے نقل کیا ہے: "لایُقْبَلُ صَلاهٌ اِلاّ بِطَهُور، وَ بِالصَّلاهِ عَلَىَّ[9]"، "نماز، طہارت اور مجھ پر صلوات کے بغیر قبول نہیں ہوتی"۔ اہلسنت کے بعض فقہاء جیسے شافعی، صلوات کو نماز کے دوسرے تشہد میں واجب جانتے ہیں۔[10] جیسا کہ نقل ہوا ہے کہ امام شافعی نے اہل بیت (علیہم السلام) کی شان میں یہ قصیدہ بھی کہا ہے:
یا اهل بیت رسول حبکم فرض من الله فی القرآن انزله
کفاکم من عظیم القدر انکم من لم یصل علیکم لاصلوة له[11]
اے رسولؐ کی اہل بیتؑ! آپؑ کی محبت، اللہ نے قرآن میں واجب کی ہے۔ آپؑ کی عظمت میں یہی بات کافی ہے کہ جو شخص (نماز پڑھے اور) صلوات نہ پڑھے تو اس کی کوئی نماز نہیں ہے۔ (امام شافعی کے اس قصیدہ میں قرآن میں واجب محبت سے مراد، آیت مودت ہے)۔

مناجات شعبانیہ کا صلوات سے آغاز
مناجات اور دعا کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ اسے، پیغمبرؐ اور پیغمبرؐ کی آلؑ پر صلوات بھیجنے سے شروع کیا جائے۔ مناجات شعبانیہ صلوات سے شروع ہورہی ہے۔ صلوات سے ابتدا کرنا دیگر دعاؤں اور مناجات میں بھی ملتا ہے بلکہ بعض دعائیں جیسے دعائے مکارم الاخلاق جس کے ۲۲ فقرے ہیں اور ہر فقرہ صلوات سے شروع ہوتا ہے اور صحیفہ سجادیہ میں امام سجاد (علیہ السلام) والدین کے لئے دعا کی ابتدا ہی صلوات سے کرتے ہیں اس کے بعد والدین کے لئے دعا کرنا شروع کرتے ہیں اور آپؑ نے والدین کے لئے دعا میں مختلف فقروں میں صلوات بھیجی ہے۔ الصحیفة الرضویة الجامعة میں کئی مقامات پر صلوات بھیجی گئی ہے۔ بنابریں مناجات شعبانیہ کا آغاز کرتے ہوئے حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) نے ابتدا میں بھی صلوات بھیجی ہے اور مناجات کو ختم کرتے ہوئے بھی صلوات بھیجی ہے۔

دعا و مناجات کی ابتدا میں صلوات بھیجنے کی وجوہات
۱۔ صلوات ایک طرف سے اللہ تعالٰی کی طرف توجہ اور دعا ہے اور دوسری طرف سے اہل بیت (علیہم السلام) کو اپنی محبت کا اظہار ہے، لہذا صلوات میں توحید بھی پائی جاتی ہے اور نبوت بھی اور امامت بھی۔
۲۔ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "لَا يَزَالُ الدُّعَاءُ مَحْجُوباً حَتَّى يُصَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّد[12]"، "دعا مسلسل حجاب (پردہ) میں رہتی ہے یہاں تک کہ محمدؐ اور آل محمدؐپر صلوات بھیجی جائے"۔
۳۔ حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں: "إِذَا كَانَتْ لَكَ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ حَاجَةٌ فَابْدَأْ بِمَسْأَلَةِ الصَّلَاةِ عَلَى رَسُولِهِ (صلَّى الله عليه وآله) ثُمَّ سَلْ حَاجَتَكَ فَإِنَّ اللَّهَ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يُسْأَلَ حَاجَتَيْنِ فَيَقْضِيَ إِحْدَاهُمَا وَ يَمْنَعَ الْأُخْرَى[13]"، "جب اللہ سبحانہ کی بارگاہ میں تمہاری کوئی حاجت ہو تو اللہ کے رسول (صلّی اللہ علیہ وآلہ) پر صلوات سے آغاز کرو اور اس کے بعد اپنی حاجت طلب کرو کیونکہ اللہ اس سے زیادہ کریم ہے کہ اس سے دو جاجتیں طلب کی جائیں تو وہ ایک کو پورا کردے اور دوسری کو روک لے"۔
۴۔ انسان جس شخصیت کے قریب ہونا چاہے، اس تک پہنچنے کے لئے اس کے محبوب کو واسطہ بناتا ہے۔ اہل بیت (علیہم السلام) اللہ کی سب سے بڑی محبوب مخلوق ہیں، لہذا دعا کی ابتدا میں صلوات بھیجنا، اہل بیت (علیہم السلام) کو اللہ کی بارگاہ میں واسطہ بنانے کا باعث بنتا ہے۔

نتیجہ: صلوات بھیجنا قرآنی حکم ہے اور صلوات کی عظمت اس قدر زیادہ ہے کہ اللہ تعالی صلوات بھیجتا ہے، ملائکہ بھی بھیجتے ہیں اور اللہ نے مومنین کو بھی حکم دیا ہے کہ صلوات بھیجیں، مگر اللہ اور ملائکہ اور مومنین کے صلوات بھیجنے کا مطلب الگ الگ ہے۔ مختلف دعاؤں اور مناجات میں محمدؐ و آل محمدؐ پر صلوات بھیجی گئی ہے جن میں ایک مناجات شعبانیہ ہے۔ مناجات شعبانیہ صلوات سے شروع ہورہی ہے، جس میں اللہ سے دیگر حاجتیں طلب کرنے سے پہلے یہ حاجت طلب کی جارہی ہے کہ "بارالہا! محمدؐ اور آل محمدؐ پر صلوات بھیج" اور اس مناجات کو حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) صلوات پر اختتام پذیر کرتے ہیں۔ شعبانیہ جو حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) سے نقل ہوئی ہے اور اس مناجات کو سب ائمہ اطہار (علیہم السلام) پڑھا کرتے تھے، اس کے پہلے فقرہ "اَللّهُمَّ صَلِّ عَلي مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ" کی تشریح کرتے ہوئے، اس سلسلہ میں پہلا مضمون پیش کیا جارہا ہے۔ آپ (علیہ السلام) بارگاہ الہی میں مناجات کو اس طرح شروع کررہے ہیں: "اَللّهُمَّ صَلِّ عَلي مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ"، "بارالہا! محمدؐ اور آل محمدؐ پر صلوات بھیج"۔

تشریح
صلوات کے لغوی اور اصطلاحی معانی

صلوات، لفظ صلاۃ کا جمع ہے اور صلاۃ "ص،ل،و" کے مادہ سے ہے۔ اس کے معنی دعا، درود، تحیت اور رحمت ہیں۔ صلوات، صلاۃ کا جمع کے طور پر نماز کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے اور کہا گیا ہے کہ کیونکہ نماز، کچھ دعاوں پر بھی مشتمل ہے تو اسے صلاۃ کہا جاتا ہے اور اس لیے صلوات عربی میں جمع کی صورت میں استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد نمازیں، دعائیں اور درود ہیں۔[1] فارسی اور اردو میں لفظ "صلوات" سے مراد، "صلاۃ" کا جمع نہیں ہے، بلکہ اس سے اصطلاحی معنی مراد ہیں یعنی محمدؐ و آل محمدؐ پر خاص درود۔
دینی اصطلاح میں صلوات اس عبادت کا نام ہے جو پیغمبرؐ اور آنحضرتؐ کی آلؑ پر خاص درود بھیجا جاتا ہے جسے شیعہ"اللهم صلّ علی محمّد و آل محمّد" کے لفظوں سے بھیجتے ہیں۔ تفسیر المیزان میں سورہ احزاب کی آیت ۴۳ کے ذیل میں بیان ہوا ہے کہ صلواۃ کے مکمل معنی، جیسا کہ اس کے مستعمل موارد سے حاصل ہوتا ہے، انعطاف (لچک اور رجحان)ہے، نسبت کے مختلف ہونے سے مختلف ہوتی ہے۔ لہذا کہا گیا ہے: وہ خدا کی طرف سے رحمت اور ملائکہ کی طرف سے استغفار اور لوگوں کی طرف سے دعا ہے۔[2]

لفظ "صلوات" کے قرآن کریم میں مختلف معانی
۱۔ دعا: "خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ"[3]، "اے رسول! ان لوگوں کے مال سے صدقہ (زکوٰۃ) لیں اور اس کے ذریعہ سے انہیں پاک و پاکیزہ کریں۔ اور (برکت دے کر) انہیں بڑھائیں نیز ان کے لیے دعائے خیر کریں کیونکہ آپ کی دعا ان کے لیے تسکین کا باعث ہے اور خدا بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے"۔
۲۔ نماز: …"فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا"[4]، …"تو نماز کو پورے طور پر ادا کرو۔ بے شک نماز اہل ایمان پر پابندی وقت کے ساتھ فرض کی گئی ہے"۔
۳۔ درود: "أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ"[5]، "یہی وہ (خوش نصیب) ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے درود (خاص عنایتیں اور نوازشیں) ہیں اور رحمت و مہربانی ہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں"۔[6]

صلوات کی اہمیت اور عظمت
صلوات کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اللہ تعالی لوگوں کو حکم دینے سے پہلے خود صلوات بھیج رہا ہے اور پھر فرشتوں کے صلوات بھیجنے کی خبر دے رہا ہے، اس کے بعد مومنین کو حکم دے رہا ہے کہ تم پیغمبرؐ پر صلوات اور سلام بھیجو، سورہ احزاب میں ارشاد الہی ہے: "إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا[7]"، "بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو جس طرح بھیجنے کا حق ہے"۔
صلوات کی عظمت، اِس آیت کریمہ کے علاوہ، احادیث سے بھی واضح ہوتی ہے جن میں محمدؐ و آل محمدؐ پر صلوات بھیجنے کی بہت تاکید کی گئی ہے۔ نیز واضح رہے کہ ناقص صلوات سے منع کیا گیا ہے۔ ناقص صلوات وہ ہوتی ہے جس میں صرف رسول اکرمؐ پر صلوات بھیجی جائے، لیکن آپؐ کی آل پر صلوات نہ بھیجی جائے۔ صلوات اتنی اہمیت کی حامل ہے کہ تمام شیعہ فقہاء نماز کے پہلے اور دوسرے تشہد میں صلوات کو واجب جانتے ہیں۔[8] نیز حضرت عائشہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا ہے: "لایُقْبَلُ صَلاهٌ اِلاّ بِطَهُور، وَ بِالصَّلاهِ عَلَىَّ[9]"، "نماز، طہارت اور مجھ پر صلوات کے بغیر قبول نہیں ہوتی"۔ اہلسنت کے بعض فقہاء جیسے شافعی، صلوات کو نماز کے دوسرے تشہد میں واجب جانتے ہیں۔[10] جیسا کہ نقل ہوا ہے کہ امام شافعی نے اہل بیت (علیہم السلام) کی شان میں یہ قصیدہ بھی کہا ہے:
یا اهل بیت رسول حبکم             فرض من الله فی القرآن انزله
کفاکم من عظیم القدر انکم          من لم یصل علیکم لاصلوة له[11]
اے رسولؐ کی اہل بیتؑ! آپؑ کی محبت، اللہ نے قرآن میں واجب کی ہے۔ آپؑ کی عظمت میں یہی بات کافی ہے کہ جو شخص (نماز پڑھے اور) صلوات نہ پڑھے تو اس کی کوئی نماز نہیں ہے۔ (امام شافعی کے اس قصیدہ میں قرآن میں واجب محبت سے مراد، آیت مودت ہے)۔

مناجات شعبانیہ کا صلوات سے آغاز
مناجات اور دعا کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ اسے، پیغمبرؐ اور پیغمبرؐ کی آلؑ پر صلوات بھیجنے سے شروع کیا جائے۔ مناجات شعبانیہ صلوات سے شروع ہورہی ہے۔ صلوات سے ابتدا کرنا دیگر دعاوں اور مناجات میں بھی ملتا ہے بلکہ بعض دعائیں جیسے دعائے مکارم الاخلاق جس کے ۲۲ فقرے ہیں اور ہر فقرہ صلوات سے شروع ہوتا ہے اور صحیفہ سجادیہ میں امام سجاد (علیہ السلام) والدین کے لئے دعا کی ابتدا ہی صلوات سے کرتے ہیں اس کے بعد والدین کے لئے دعا کرنا شروع کرتے ہیں اور آپؑ نے والدین کے لئے دعا میں مختلف فقروں میں صلوات بھیجی ہے۔ الصحیفة الرضویة الجامعة میں کئی مقامات پر صلوات بھیجی گئی ہے۔ بنابریں مناجات شعبانیہ کا آغاز کرتے ہوئے حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) نے ابتدا میں بھی صلوات بھیجی ہے اور مناجات کو ختم کرتے ہوئے بھی صلوات بھیجی ہے۔

دعا و مناجات کی ابتدا میں صلوات بھیجنے کی وجوہات
۱۔ صلوات ایک طرف سے اللہ تعالی کی طرف توجہ اور دعا ہے اور دوسری طرف سے اہل بیت (علیہم السلام) کو اپنی محبت کا اظہار ہے، لہذا صلوات میں توحید بھی پائی جاتی ہے اور نبوت بھی اور امامت بھی۔
۲۔ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "لَا يَزَالُ الدُّعَاءُ مَحْجُوباً حَتَّى يُصَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّد[12]"، "دعا مسلسل حجاب (پردہ) میں رہتی ہے یہاں تک کہ محمدؐ اور آل محمدؐپر صلوات بھیجی جائے"۔
۳۔ حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں: "إِذَا كَانَتْ لَكَ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ حَاجَةٌ فَابْدَأْ بِمَسْأَلَةِ الصَّلَاةِ عَلَى رَسُولِهِ (صلى الله عليه وآله) ثُمَّ سَلْ حَاجَتَكَ فَإِنَّ اللَّهَ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يُسْأَلَ حَاجَتَيْنِ فَيَقْضِيَ إِحْدَاهُمَا وَ يَمْنَعَ الْأُخْرَى[13]"، "جب اللہ سبحانہ کی بارگاہ میں تمہاری کوئی حاجت ہو تو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ) پر صلوات سے آغاز کرو اور اس کے بعد اپنی حاجت طلب کرو کیونکہ اللہ اس سے زیادہ کریم ہے کہ اس سے دو جاجتیں طلب کی جائیں تو وہ ایک کو پورا کردے اور دوسری کو پورا نہ کرے"۔
۴۔ انسان جس شخصیت کے قریب ہونا چاہے، اس تک پہنچنے کے لئے اس کے محبوب کو واسطہ بناتا ہے۔ اہل بیت (علیہم السلام) اللہ کی سب سے بڑی محبوب مخلوق ہیں، لہذا دعا کی ابتدا میں صلوات بھیجنا، اہل بیت (علیہم السلام) کو اللہ کی بارگاہ میں واسطہ بنانے کا باعث بنتا ہے۔

نتیجہ: صلوات بھیجنا قرآنی حکم ہے اور صلوات کی عظمت اس قدر زیادہ ہے کہ اللہ تعالی صلوات بھیجتا ہے، ملائکہ بھی بھیجتے ہیں اور اللہ نے مومنین کو بھی حکم دیا ہے کہ صلوات بھیجیں، مگر اللہ اور ملائکہ اور مومنین کے صلوات بھیجنے کا مطلب الگ الگ ہے۔ مختلف دعاوں اور مناجات میں محمدؐ و آل محمدؐ پر صلوات بھیجی گئی ہے جن میں ایک مناجات شعبانیہ ہے۔ مناجات شعبانیہ صلوات سے شروع ہورہی ہے، جس میں اللہ سے دیگر حاجتیں طلب کرنے سے پہلے یہ حاجت طلب کی جارہی ہے کہ "بارالہا! محمدؐ اور آل محمدؐ پر صلوات بھیج" اور اس مناجات کو حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) صلوات پر اختتام پذیر کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
[1] مجمع البحرین ج1، 266۔
[2] قاموس قرآن، علی اکبر قرشی، ج4، ص146۔
[3] سورہ توبہ، آیت 103۔
[4] سورہ نساء، آیت 103
[5] سورہ بقرہ، آیت 157۔
[6] ترجمہ مولانا شیخ محسن نجفی صاحب۔
[7] سورہ احزاب، آیت 56۔
[8] آیت اللہ مکارم شیرازی کی سائٹ سے ماخوذ:
http://makarem.ir/main.aspx?typeinfo=42&lid=0&mid=318365
[9] بحارالانوار، ج82، ص278۔
[10] تذکرہ علامہ، ج1، ص126۔
[11] صواعق المحرقة، باب 11، ص 149.
[12] الکافی، ج2، ص491۔
[13] نہج البلاغہ، حکمت 361۔

kotah_neveshte: 

خلاصہ: محمد و آل محمد (علیہم السلام) پر صلوات بھیجنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے، لہذا اللہ تعالی نے قرآن میں اپنی اور فرشتوں کا صلوات بھیجنے کی خبر دی ہے اور مومنین کو بھی صلوات بھیجنے کا حکم دیا ہے اور اہل بیت (علیہم السلام) نے اپنی دعاوں اور مناجات میں صلوات بھیجی ہے، جن میں سے ایک مناجات شعبانیہ ہے۔ حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) نے اس کی ابتدا صلوات سے کی ہے۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
2 + 1 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 34