رسول اللہ (ص) کی عصمت بعثت سے پہلے (۲)

Sun, 04/16/2017 - 11:16

خلاصہ: بعثت سے پہلے کی زندگی میں آپ کی عصمت پر متعصب لوگوں کے اعتراضات کا رد پیش کیا جارہا ہے۔ یہ دوسری آیت ہے جس پر انہوں نے استدلال کیا ہے، ہم اس آیت اور ان کے استدلال کو ذکر کرتے ہوئے ان کی دلیل کا رد پیش کرتے ہیں۔

رسول اللہ (ص) کی عصمت بعثت سے پہلے (۲)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بعثت سے پہلے کی زندگی میں آپ کی عصمت پر متعصب لوگوں کے اعتراضات کا رد پیش کیا جارہا ہے۔ یہ دوسری آیت ہے جس پر انہوں نے استدلال کیا ہے، ہم اس آیت اور ان کے استدلال کو ذکر کرتے ہوئے ان کی دلیل کا رد پیش کرتے ہیں:

سوره مدثر، آیت ۵

" فالرجز فاهجر" قرآن کریم نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو سورہ مدثر میں حکم دیا ہے کہ "رجز" سے اجتناب کریں، اگر اس سے مقصود "بت" ہوں، تو اس سے دوری اختیار کرنے کا کیا مطلب ہے؟

جواب یہ ہے کہ "رجز" عربی میں تین معانی میں استعمال ہوتا ہے اور شاید یہ تینوں معانی ایک وسیع اور عام معنی کے جزئی معانی ہوں: ۱۔ عذاب ۲۔ آلودگی ۳۔ بت۔ اب ہم تینوں احتمالات کو اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں تا کہ واضح ہوجائے کہ کسی معنی میں بھی بعثت سے پہلے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی خطا پر دلیل نہیں ہے۔

(الف) "رجز" عذاب کے معنی میں: "رجز"، "ر" کے نیچے کسرہ(زیر) کے ساتھ نو بار قرآن کریم میں ذکر ہوا ہے اور ان سب جگہوں پر اس سے مراد "عذاب" ہے، سوائے ایک جگہ کے، ان کا حوالہ یہ ہے: (بقره /۵۹)، (اعراف /۱۳۴، و ۱۳۵ و ۱۶۲)، (انفال /۱۱)، (سبأ /۵)، (جاثیه /۱۱) (عنکبوت /۲۹) ۔ لیکن یہی لفظ "ر" پر ضمہ( پیش) کے ساتھ صرف ایک بار قرآن میں ذکر ہوا ہے جو سورہ مدثر کی یہی آیت ہے۔ اگر اس سے مراد عذاب ہو تو مقصد ان اعمال سے دوری اختیار کرنا ہے جخطاب و عذاب کا باعث بنتے ہیں اور اس طرح کا اس بات کی علامت نہیں ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) عذاب کے اسباب کے قریب تھے جو آپ کی عصمت کے منافی ہو، کیونکہ قرآنی خطابات عمومی پہلو کے حامل ہیں اور چونکہ خود پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو خطاب کیا گیا ہے تو مراد دوسروں کو تعلیم دینا اور امت کو تفہیم کرنا ہے۔ اس طرح کی اور مثالیں بھی قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں مثلاً شرک کے نقصانات کے بارے میں کہ شرک تمام نیک اعمال کے برباد ہوجانے کا باعث بنتا ہے، پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو خطاب کیا ہے تاکہ سب مشرکین اپنا حساب جان لیں، فرمایا ہے: "لئن اشرکت لیحبطنٌ عملک"[۱] (اگر شرک کرو تو تمہارے تمام نیک اعمال تباہ ہوجائیں گے)۔ یہ خطاب پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے ہے لیکن مراد امت ہے اور مقصد سب انسانوں کی تربیت ہے۔

(ب) رجز ظاہری آلودگی کے معنی میں: اگر اس لفظ سے مراد ظاہری آلودگی ہو تو صرف دستورالعمل ہے۔ جیسے خداوند متعال پیغمبر (ص) کو حکم دے کہ نماز پڑھیں۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ اس آیت سے مراد یہی معنی ہے کیونکہ ابن مسعود سے منقول ہے کہ ہم پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ساتھ مسجد الحرام میں تھے۔ ابوجہل داخل ہوا اور اس نے کہا: کیا تم میں کوئی ہے جو اس گندی چیز کو محمد پر پھینکے، فوراً ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے وہ گندی چیز لے کر پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی طرف پھینکی۔[۲] اور اگر مقصود روحانی اور اخلاقی آلودگی ہو یعنی بُری صفات سے دوری اختیار کریں تو اس کا مطلب وہی ہے جو پہلے معنی (عذاب) میں بیان ہوا اور ایسے خطابات میں تعلیمی پہلو پایا جاتا ہے۔

(ج) "رجز" بت کے معنی میں: فرض کریں اس سے مراد بت ہے اگرچہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کا ایک معنی بت ہے، بلکہ ظاہراً اس لفظ کا وسیع معنی ہے یعنی "آلودہ" کے معنی میں اور بت بھی اس کے مصادیق میں سے ہے جیسے جوا اور جوئے کے وسائل اور شراب کو قرآن نے لفظ "رجس" سے ذکر کیا ہے، جیسے وہاں رجس کا وسیع معنی ہے اسی طرح یہاں "رجز" کا بھی وسیع معنی ہے۔ اب ہم فرض کرتے ہیں کہ "بت" اس لفظ کے براہ راست معانی میں سے ہے اور آیت میں اس سے یہی مراد ہے لیکن بت سے دوری اختیار کرنے کے حکم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مخاطب میں بت پرستی پائی جاتی ہے، وہ مخاطب جسے خطاب عمومی، قانونی اور عالمی حیثیت کا حامل ہے، کیونکہ جیسے پہلے بیان ہوا قرآنی خطابات تعلیمی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نہ صرف آپ بت پرستی نہیں کرتے تھے (اور نہ ہی ہرگز ایسا کیا) بلکہ اُس وقت بت شکنی کی کوشش میں تھے اور مشرکین اور بت پرستوں سے شدید مقابلہ میں مصروف تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ:

عصمت پیامبر ( صلی الله علیه و آله ) پیش از بعثت۔ آیت اللہ جعفر سبحانی

[۱]سورہ زمر، آیت ۶۵۔
[۲]عیون الاثر، ج 1، ص 103.

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
3 + 2 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 39