جنت البقیع، تعمیر سے تخریب تک

Sun, 04/16/2017 - 11:16

خلاصہ: جنت البقیع کو تین بادشاہوں نے تعمیر کروایا اور وہابیوں نے دو دفعہ اسے منہدم کیا۔

جنت البقیع، تعمیر سے تخریب تک

بسم اللہ الرحمن الرحیم
     بقیع، مدینہ کا سب سے پہلا اور قدیم اسلامی قبرستان ہے، جس میں چار ائمہ(علیہم السلام)، حضرت فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا) اور اور تابعین میں سے کئی بزرگان اسلام اسی قبرستان میں مدفون ہیں۔ اس قبرستان میں موجود معصومین کی پاک و پاکیزہ قبروں کے گنبد و بارگاہ کی تاریخ، عجیب نشیب و فراز سے گزری ہے۔

     مشہور مؤرّخ’’سمہودی‘‘ کہتا ہے: ٥١٩ ہجری میں تعمیر شدہ بارگاہ و گنبد کے وجود میں آنے کے پچاس سال بعد اِس حرم کی پہلی تعمیر عباسی خلیفہ ’’مسترشد باللہ‘‘ کے حکم سے ہوئی، حضرت عباس بن عبد المطّلب(علیہ السلام) کی قبر کے پاس طاق میں موجود ایک چھوٹے سے کُتبہ پر یہ عبارت درج ہے: ’’ اِنَّ الْأمْرَ بِعملہ المُسْتَرشِد باللّٰہ تسع و عشرۃ و خمسمأۃ‘‘۔
     یہاں ایک اور نکتہ کی جانب اشارہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ اِس حرم کی اصل عمارت اِس تاریخ سے پہلے کی ہے کہ جسے سمہودی نے بیان کیا ہے، اور حرم کی تعمیر کا ’’مسترشد باللہ‘‘ کا حکم اس کی مرمت اور اصلاح کیلئے تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ’’مسترشد باللہ‘‘ انتیسواں عباسی خلیفہ ہے جو ٥١٢ ہجری میں اپنے باپ ’’مستظہر باللہ‘‘ کے بعد خلافت کو حاصل کرتا ہے اور ٥٢٩ ہجر ی میں قتل کر دیا گیا۔

     حرم ائمہ بقیع کی دوسری بار تعمیر و مرمت عباسی خلیفہ’’مستنصر باللّٰہ‘‘ کے حکم سے ٦٢٣ ہجری اور ٦٤٠ ہجری کے درمیانی عرصہ میں انجام پائی، سمہودی اِس بارے میں لکھتا ہے: ’’حرم بقیع میں موجود محراب کے اوپر لگے ہوئے چھوٹے سے کتبہ پر یہ عبارت درج ہے: ’’اَمر بعملہ المنصور المستنصر باللّٰہ‘‘۔

     اِس حرم کی تیسری تعمیر تیرہوں صدی کے اوائل میں عثمانی خلیفہ سلطان محمود غزنوی کے حکم سے ۱۲۲۳ہجری اور ۱۲۵۵ہجری کے درمیانی عرصہ میں انجام پائی۔[۱]

     وہ گنبد اور عمارتیں جنہیں وہابیوں کی پہلی لہر نے سن ۱۲۲۱ ہجری میں مسمار کیا تھا، ان کی تعمیر نو، سلطان عبدالحمید دوم کے حکم پر انجام پائی لیکن سن ۱۳۴۴ میں بقیع کو مدینہ کے حکمران امیر محمد نے اپنے باپ عبدالعزیز آل سعود کے حکم پر دوبارہ مسمار کیا۔
     اس اقدام سے قبل اس نے دنیا کے مسلمانوں بالخصوص اہل تشیع کے احتجاج سے بچنے کے لئے آل سعود کے قاضی القضات عبداللہ بن سلیمان بن بلیہد، خود مدینہ پہنچا اور باضابطہ سرکاری خطوط و مراسلات کے ذریعہ مدینہ کے علماء سے قبور کے اوپر عمارتیں بنانے کے بارے میں ان کی رائے پوچھی اور مؤرخین کے مطابق انہیں ڈرایا دھمکایا جس کے نتیجہ میں انھوں نے رائے دی کہ قبور پر عمارت تعمیر کرنا شرعا حرام ہے۔
     اس فتوے کے آنے پر وہابیوں نے تمام عمارتوں، گنبدوں اور بارگاہوں کو مسمار کیا، جس کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں نے احتجاج کیا اور ہر سال مختلف ممالک میں "یوم انہدام جنت البقیع" کے موقع پر جلسے اور جلوس ہوتے ہیں اور مسمار شدہ مقابر کی تعمیر نو کا مطالبہ کیا جاتا ہے [گویا اب تو وہابی دوسرے ممالک میں انبیاء اور اولیاء اور بزرگان دین کی قبریں منہدم کرنے میں مصروف ہیں!]۔
     ہمارے زمانے میں بھی بقیع کے مقابر پر گنبد و بارگاہ موجود نہیں ہے۔ قبروں پر پتھر نصب کئے گئے ہیں جن پر نہ کوئی مکتوب ہے اور نہ ہی کوئی کتبہ۔
     سن ۱۹۵۴عیسوی کو دینی مراجع اور علماء کے دباؤ اور سیاسی اقدامات کے نتیجہ میں سعودی بادشاہ سعود بن عبدالعزیز نے بقیع میں سیمنٹ کے راستے بنائے تاکہ زائرین کو آنے جانے میں دشواری نہ ہو۔ فیصل بن عبدالعزیز کے زمانے میں ایک بڑا دروازہ تیار کیا گیا اور کئی سال بعد مغربی جانب ایک سائبان بنایا گیا۔[۲]

خداوند عالم سے دعا ہے کہ جلد از جلد جنت البقیع کے تعمیر کے راستے ہموار کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منابع:

[۱]۔ http://www.erfan.ir/urdu/47591.html

[۲]۔  http://ur.wikishia.net/view/ جنۃ البقیع

 

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
3 + 3 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 37